لاہور ہائی پروفائل کیس: ڈی آئی جی آپریشنز کی وضاحت، ملزم کی شناخت پر سوالات برقرار

لاہور ہائی پروفائل کیس: ڈی آئی جی آپریشنز کی وضاحت، ملزم کی شناخت پر سوالات برقرار

لاہور: دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور تاوان سے متعلق زیرِ تفتیش ہائی پروفائل کیس میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ اس مقدمے کی تحقیقات لاہور پولیس ہی مکمل کرے گی اور اسے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حوالے نہیں کیا جا رہا۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ پولیس کے مطابق زیرِ تفتیش شخص وحید عرف "باس" ہے، جس کے خلاف ماضی میں متعدد مقدمات درج ہونے کا ریکارڈ موجود ہے اور وہ پہلے بھی قانونی کارروائی کا سامنا کر چکا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے دعویٰ کیا کہ زیرِ بحث شخص کا نام وحید نہیں بلکہ علی ڈار ہے اور اصل شناخت چھپائی جا رہی ہے۔ اس پر ڈی آئی جی فیصل کامران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔

بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی زیرِ گردش رہی، جس میں مختلف افراد کی شناخت سے متعلق دعوے کیے گئے۔ تاہم پولیس نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے وہی معلومات دہرائیں جو پریس کانفرنس میں پیش کی گئیں۔

اس کیس کے حوالے سے ملزم کی شناخت، تحقیقات کی سمت اور دیگر پہلوؤں پر عوامی اور میڈیا حلقوں میں مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان معاملات پر حتمی فیصلہ عدالت اور تفتیشی اداروں کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

نوٹ: اس خبر میں شامل بعض نکات مختلف فریقین کے مؤقف اور عوامی دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق متعلقہ اداروں یا عدالت کی جانب سے ہونا باقی ہے۔

Powered by Blogger.