شہدادپور: اسلام قبول کرنے والی خاتون سکینہ نے تحفظ اور انصاف کی اپیل کر دی
شہدادپور: شہدادپور کے رہائشی شاہد علی ولد مبارک علی نے اپنی اہلیہ سکینہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سکینہ، جو پہلے ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھیں اور جن کا سابقہ نام کویتا تھا، نے اپنی مرضی اور خوشی سے اسلام قبول کرنے کے بعد ان سے قانونی طور پر نکاح کیا۔
سکینہ نے بتایا کہ انہوں نے 16 اپریل 2026 کو شریعت کے مطابق اسلام قبول کیا، جس کے بعد حیدرآباد کی عدالت میں اپنی رضا و خوشی سے شاہد علی کے ساتھ نکاح کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام قبول کرنے اور نکاح کے بعد انہیں، ان کے شوہر اور سسرال کے دیگر افراد کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ سسرال والوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرا کے ہراساں کیا جا رہا ہے۔
سکینہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ جھول پولیس کی جانب سے بھی ان کے سسرال والوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران سکینہ نے آئی جی سندھ، متعلقہ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ ان اور ان کے شوہر کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، مبینہ جھوٹے مقدمات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
نوٹ: مذکورہ تمام الزامات درخواست گزار فریق کے دعووں پر مبنی ہیں، جن کی متعلقہ حکام کی جانب سے آزادانہ تصدیق یا مؤقف سامنے نہیں آیا۔



0 Comments